جمعرات, جولائی 18, 2024
اردو ادب

بناوٹ کے لحاظ سے اسم کی قسمیں

بناوٹ کے لحاظ سے اسم کی قسمیں تین ہیں۔

اسم جامداسم مشتقاسم مصدر

اسم جامد کی تعریف:

اسم جامد وہ کلمہ ہے جو نہ تو خود کسی دوسرے کلمے سے بنے اور نہ ہی اس سے کوئی کلمہ بن سکتے ہو ہوں۔

جامد کی معنی "جما ہوا” ہے. یعنی جو کوئی حرکت نہ کر سکے۔ مثال کے طور پر، پہاڑ، چاقو، سیب، میز وغیرہ وغیرہ۔

اسم مشتق کی تعریف:

اسم مشتق وہ اسم ہے جو خود تو مصدر سے بنے لیکن اس سے کوئی اور لفظ نہ بن سکے۔ اسم فاعل، اسم مفعول، اسم حاصل مصدر، اسم حالیہ، اسم معاوضہ، اسم ظرف اور اسم آلہ، یہ سب اسم نکرہ کی اقسام ہیں لیکن یہ اسم مشتق ہیں۔ اس لیے ان کو اسم مشتق بھی کہا جاتا ہے۔

اسم مصدر تعریف:

اسم مصدر وہ اسم ہے جو خود تو کسی سے نہ نکلا ہو لیکن اور الفاظ اس سے نکل سکتے ہو۔

مثال کے طور پر جیسے کھانا، پینا، سونا، جاگنا وغیرہ وغیرہ۔ وہ کلمہ جو کسی کام یا حرکت کا بیان ہو اور اس میں زمانہ نہ پایا جائے، مطلب کام کا وقت معین نہ ہو وہ مصدر کہلاتا ہے۔ مصدر کا عام علامت اور نشانی یہ ہے کہ اس کے آخر میں ہمیشہ "نا’ آنا ہے جیسا کہ کہنا، سننا، چلنا، پھرنا وغیرہ وغیرہ۔

بعض اسم اسے بھی ہوتے ہیں جن کے آخر پر "نا” آتا ہے مگر وہ مصدر نہیں ہوتے۔ ان جملہ میں کام کا کرنا نہیں پایا جاتا جیسے پرانا، سونا، نانا، چونا وغیرہ وغیرہ۔بناوٹ کے لحاظ سے مصدر کی دو اقسام ہیں۔ 1۔ اصلی مصدرجعلی مصدر

اصلی مصدر کی تعریف:

اصلی مصدر وہ ہے جو خاص مصدری معنوں کے لیے وضح کیا گیا ہو۔ مثال کے طور جیسے دیکھنا، لینا، دینا وغیرہ وغیرہ۔

جعلی مصدر کی تعریف:

جعلی مصدر وہ اسم ہے جو غیر زبانوں کے الفاظ پر علامت مصدر "نا” زیادہ کر کے مصدر بنا دیا ہو جیسے برق سے برقانا، لالچ سے للچانا، پتھر سے پتھرانا وغیرہ وغیرہ۔