جمعرات, جولائی 18, 2024
اردو ادب

اسم صفت کی اقسام

اسم صفت کی اقسام کی تعداد چار ہے۔ 1۔ صفت ذاتی یا صفت مشبہصفت نسبتیصفت عددیصفت مقداری

اسم ذاتی یا صفت مشبہ کی تعریف:

یہ وہ اسم ہے جس سے ذاتی وصفت ظاہر ہو۔ مثال کے طور پر "ظہور ذہین لڑکا ہے” ذہین اس کا وصف ہے۔ اسی طرح میٹھا، ٹھوس، نرم، گرم وغیرہ وغیرہ۔

صفت ذاتی کے درجے:

صفت ذاتی یا صفت مشبہ کے تین درجے ہیں۔ 1۔ تفصیل نفسی 2۔ تفصیل بعض 3۔ تفصیل کل

تفصیل نفسی کی تعریف:

تفصیل نفسی میں کسی چیز یا شخص کی صفت بلا مقابلہ غیرے ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر "لائق”۔ اوس ذہین لڑکا ہے۔

تفصیل بعض کی تعریف:

یہ صفت ذاتی کا وہ درجہ ہے جس میں کسی ایک شخص کو کسی دوسرے شخص پر ترجیح دی جائے۔ مثال کے طور پر "اوس احمد سے ذہین ہے۔”

تفصیل کل کی تعریف:

یہ وہ درجہ ہے جس میں کسی شخص یا چیز کو سب پر ترجیح دی جائے۔ مثلاً راشد سب سے ذہین لڑکا ہے۔

صفتی نسبتی کی تعریف:

وہ صفت ہے جو کسی شخص یا چیز کا دوسرے شخص یا چیز سے تعلق یا نسبت ظاہر کریں۔ مثال کے طور پر، جگر مراد آبادی، غالب دہلوی، مجید لاہوری۔

صفت عددی کی تعریف:

صفت عددی وہ صفت ہے جس میں کسی شے کی تعداد کا مفہوم پایا جائے۔ اس کی بھی دو قسمیں ہیں 1۔ عدد معینعدد غیر معین۔

صفت مقداری کی تعریف:

صفت مقداری وہ صفت ہے جس سے کسی شے یا چیز کی مقدار یا جسامت ظاہر ہو رہی ہو۔ اگر کسی چیز کی صحیح مقدار معلوم ہو تو اس مقدار معین کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، دو کلو چینی، دو لیٹر دودھ وغیرہ۔ اگر کسی چیز کی مقدار معلوم نہ ہو تو اسے مقدار غیر معین کہا جاتا ہے۔ مثلاً اتنا زیادہ نہ کھاؤ کہ تم کو بدہضمی ہو جائے۔ اتنا، کتنا، کس قدر، بہت کم، زیادہ، تھوڑا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب الفاظ غیر معین کو ظاہر کرتے ہیں۔