ناول کے اجزاء
ناول ان اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے۔
1۔ کہانی
2۔ پلاٹ
3۔ کردار نگاری
4۔ مکالمہ
5۔ زمان ومکان
6۔ جذبات نگاری
7۔ منظر نگاری
8۔ زبان
9۔ فلسفہ حیات
کہانی: کوئی بھی کہانی یا قصہ ناول کا اہم جزا ہوتا ہے۔ کہانی ناول کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، کوئی ناول بھی کہانی کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتا۔ ناول کی کہانی عام زندگی کا قصہ ہوتا ہے۔
پلاٹ: ناول میں پلاٹ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ پلاٹ ناول کا فن تعمیر ہوتا ہے۔ کہانی کی تنظیم پلاٹ کہلاتی ہے۔ ایک اچھے ناول کی خصوصیات یہ ہے کہ اس کا پلاٹ مربوط ہونا چاہئے۔ پلاٹ کا تعلق امیر طبقے سے ہو یا کسی غریب طبقے سے، ماضی سے ہو یا حال سے اس میں زندگی کا پرتو ضرور ہوتا ہے۔ المیہ ہو یا طربیہ زندگی کے مسائل حل کر سکتا ہو اور تعمیری صلاحیت کا حامل ہونا چاہئے۔
کردار نگاری: ناول میں افراد قصہ کو کردار کہا جاتا ہے۔ ناول میں کردار عام انسانی زندگی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ناول کی کامیابی کا انحصار انسانی زندگی کے مطالعہ اور اس کے کرداروں پر ہے- ناول نگار کے ہاتھ میں مصور کا قلم ہونا چاہئے تاکہ وہ کرداروں کی جیتی جاگتی تصویریں پیش کر سکے گے۔ وہ کرداروں کی خوبیاں اور خامیاں دونوں سامنے لے کر آئے۔ اور ان کا تجزیہ کرے۔
مکالمہ: مکالمہ ناول کا ایک اہم اور ضروری حصہ ہوتا ہے جو قصہ کے ارتقا میں معاون ومددگار ثابت ہوتا ہے۔ مکالمے کے ذریعے کرداروں کی شخصیت کے گوشے بے نقاب ہوتے ہیں۔ کسی بھی ناول کی کامیابی کا انحصار اچھے مکالموں پر ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ زبان عام فہم اور آسان ہونی چاہیے۔ مکالمہ کردار کی عمر، جنس، مزاج اور تعلیم کے مطابق ہو اور اس کا اندازہ فطری ہو مکالمہ دلچسپ، موزوں اور برمحل ہو تو ناول میں خوبصورتی پیدا ہوتی ہے اور ناول کامیاب ہوتا ہے۔
زمان ومکان: ناول زمان و مکان کی حدود میں ترتیب پاتا ہے۔ ناول نگار اسی ماحول یا زمان و مکان اور اپنے ماحول کو ناول میں پیسش کرتا ہے۔ جب وہ ماحول کو اچھی طرح سمجھ جاتا ہے تو پھر اپنے ناول کو کامیاب بنانا لیتا ہے۔
جذبات نگاری: زندگی خوشی، غم، غصے اور حیرت کے جذبات سے بھری پڑی ہے۔ انسانی زندگی کی عکاسی کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ ناول نگار انسانی جذبات کی عکاسی میں کامل فن ہو۔ جذباتی اثرات گہرے اور مستقل ہوں کسی جذبے کے بارے میں مصنوعی ہونے کا احساس نہیں ہونا چاہیے۔
منظر نگاری: ناول کے کرداروں کے عادات و خصائل، طرز زندگی، طرز رہائش اور ان کے ماحول کو منظر نگاری کہتے ہیں۔ منظر نگاری چاہیے سماجی ہو یا مادی، کسی کامیاب ناول کے لیے بہت ضروری ہے۔ ماحول کی عکاسی کرداروں کے مزاج اور ان کی ذہنی کیفیت کو منظر نگاری کے ذریعے ہی سے سامنے لایا جاتا ہے۔ منظر نگاری کے لیے ضروری ہے کہ وہ فطری ہونا چاہیے۔
زبان: ناول کا تعلق انسانی زندگی سے ہوتا ہے۔ ناول کی زبان عام فہم سادہ اور لوگوں کو سمجھ آنے والی ہو۔ زبان عام لوگوں کی بول چال کے قریب ہو۔ ناول میں زبان مشکل، دقیق، رنگین عبارات اور ضرب الامثال سے پرہیز ضروری ہوتا ہے۔ زبان مصنوعی نہ ہو۔
فلسفہ حیات: ہر کامیاب ناول فلسفہ حیات کو پیش کرتا ہے۔ ناول کی کامیابی کا انحصار اس میں موجود فلسفہ حیات کو بلندی یا پستی پر ہوتا ہے۔ دراصل ناول نگار مفکر بھی ہوتا ہے اور مفسر بھی۔ ناول نگار اپنے فلسفہ حیات کو دو طریقوں سے پیش کرتا ہے یا تو خود اس کی وضاحت کر دیتا ہے یا وہ اپنے مواد اور کرداروں کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ پڑھنے والے خود اس کا فلسفہ حیات سمجھ لیتے ہیں۔