اتوار, جولائی 14, 2024
اردو ادب

ابتذال

ابتذال کے معنی بے ہودہ خرچ کرنا، کھو دینا، بے اعتباری، بے قدری، پامالی، اخلاقی پستی، عمومیت، عامیانہ پن، ہلکا پن اور کمینہ پن کے ہیں۔ اسی سے متبذل ہے جس کے معنی ذلیل، حقیر، رذیل، سفلہ، کمینہ، بے قدر اور حقیقت کے ہیں۔ اصطلاحاً شاعری میں رکیک، بازاری، عامیانہ، فرسودہ، اور پامال الفاظ و مضامین کا استعمال و اظہار ابتذال کہلاتا ہے۔ گویا ابتذال الفاظ کی سطح پر بھی ہوتا ہے اور مضامین کی سطح پر بھی۔ لیکن عام طور پر اسے الفاظ کی حد تک محدود سمجھا گیا ہے۔ یوں تو ابتذال کی مثالیں دوسرے شاعروں کے کلام میں بھی ملتی ہیں مگر شبلی نعمانی کے بقول ابتذال کے صاف اور بین مثال نظیر اکبر آبادی کے کلام میں پائی جاتی ہے۔