ہفتہ, جولائی 13, 2024
اردو ادب

آمد اور آورد

آمد، آمدن سے حاصل مصدر ہے جس کا مطلب ہے آنا بلا کوشش ذہن میں مضامین کے آنے کے اور خیالات کے پے در پے پیدا ہونے اور کلام کے خودرد، بے ساختہ، تکف سے عادی اور بناوٹ سے خالی ہونے کے لیے یہ ادبی اصطلاح مستعمل ہے۔ اس کے برعکس آورد، آوردن سے حاصل مصدر ہے جس کا مطلب ہے لانا فطری تقاضے کے بغیر، کاوش سے کسی بات کے طبیعت میں لانے کا تکف سے شعر کہنے اور کلام میں گھڑت اور بناوٹ ہونے کے لیے یہ ادبی اصطلاح مستعمل ہے۔ بیسویں صدی کے نامور اردو شاعر مجید امجد کی پرتاثیر شاعری کے بارے میں ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کہتے ہیں۔

ان کے کلام میں بہت زبردست آورد پائی جاتی ہے۔ اس کے باوجود جذباتی گہرائی جتنی ان کے کلام میں ملتی ہے وہ دور حاضر میں کسی اور کے کلام میں نایاب ہے۔