جمعہ, اپریل 19, 2024
موٹیویشن

اساتذہ کا سرکاری سکولوں میں کردار

جب کسی آدمی کو اپنا کام آتا ہے تو وہ کبھی بھی ڈپریشن کا شکار نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپناکام کرنے میں خوشی محسوس کرتاہے، یہاں تک کہ وہ اپنی تھکاوٹ کو بھی کام سے اتارتا ہے اور اس کی روح بھی خوش ہوتی ہے۔ جو کام اس کے بس کا روگ نہیں ہوتا وہ کرنے سے اسے فرسٹریشن ہو جائے گی اور وہ کام کرکے پریشان ہو جائے گا۔ اسے اس کام سے تھکاوٹ محسوس ہو گی۔اس کا غصہ کہیں کا ہو گا اور نکالے کا کہیں اور۔ہمادے استاد کا محاملہ بھی یہی ہے۔ جب یہ سب کچھ ہوتا ہے تو اس کی زندگی منظم نہیں ہوتی۔اس کا عدم نظم اس کے رویے اور برتاؤ پر اثرانداز ہوتا ہے۔اساتذہ دوران تعلیم جارحانہ انداز اختیار کرتے ہیں۔ جب ایسے اساتذہ تعلیمی اداروں میں بھرتی ہوتے ہیں تو طلبہ کے بھی رویے تبدیل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں لڑائی جھگڑے کا اس سے پہلا بنیادی سبب یہی ہوتا ہے

یاد رکھیں، استاد ایک رویے کا نام ہے۔ استاد کسی عہدے کا نام نہیں ہے۔ اگر استاد کا رویہ مثبت نہیں ہے، اس میں احترام نہیں ہے تو پھر استاد کا بھی احترام نہیں گیا جائے گا۔ جس استاد کا رویہ طلبہ وطالبات کے ساتھ باپ والا، شفقت والا، احترام والا نہیں ہے تو اس سے معزرت کرنا ہی بہتر ہے

اساتذہ کے اس طرح کے رویے کی اصل وجہ وہ فرسٹریشن ہے جو خود استاد میں پائی جاتی ہے۔ اکثر اساتذہ کو ان کی مناسب عمر میں مناسب تعلیم کے ساتھ جاب مل جاتی ہے۔

اساتذہ کہ نہ فکری اور نفسیاتی نمو ہوتی ہے اور نہ ان کے پڑھنے کا طریقہ درست ہوتا ہے۔ استاد کو یہ شعور ہی نہیں ہوتا کہ اک استاد کا کام صرف اپنی کتاب کے چند ابواب سوڈنٹ کو پڑھا دینا اور کچھ سوالات سمجھا دینا نہیں ہے بلکہ اساتذہ کے ہاتھ میں ایک قوم اور ملت کی باگ ڈور ہوتی ہے۔ جب ایسے اساتذہ کے ہاتھ میں نمبر دینے کا اختیار آجاتا ہے تو وہ کالج اور یونیورسٹی میں بیٹھ کر اسٹوڈنٹس کو بلیک میل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ بلیک میل کبھی امتحان میں نمبر دینے کی ہوتی ہے اور کبھی وائیوا کی ہوتی ہے۔

اساتذہ کی تعلیمی اداروں میں یہ وہ خرابیاں ہیں جو ہم ملک کے تعلیمی شعبے میں اور ہمارے اساتذہ میں پائی جاتی ہیں۔ کسی برائی کو ختم کرنے کے لیے اس برائی کی نشان دہی بہت ضروری ہے۔ اس طرح کی برائی ختم کرنے کے لیے لازم ہے کہ اس کے خلاف اعلان جہاد گیا جائے اور اس کا ظہار کیا جائے۔ اگر اس برائی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم نفرت تو کہ جا سکتی ہے